پاکستان کا منفرد سرکاری ہسپتال

کالم: زبیدہ مصطفیٰ

سندھ اور بلوچستان کے حالیہ سیلاب میں پاکستان کے صحت عامہ کے نظام کی خوبیاں اور بد عنوانیاں ابھر کر سامنے آئیں۔ میں نے بہت سے دوست احباب سے امدادی کارروائیوں کے متعلق بھی مختلف شکایات سُنیں۔

لیکن کسی نے طبی کارکردگی پر کوئی بھی منفی لفظ نہیں کہا بلکہ کافی لوگوں سے خلاف توقع تعریف سنی۔ عام تاثر کے بر خلاف، جو بات عیاں ہوئی وہ یہ تھی کہ ملک میں آج بھی بہت سے ایسے طبیب پائے جاتے ہیں، جن کے دل میں سیلاب زدگان کی خدمت اور انسانی ہمدردی کا جذبہ موجود ہے۔ اُنہوں نے بیماروں اور زخمیوں کی بے لوث خدمت کی اور صحیح معنوں میں ان کے زخموں پر مرہم  رکھا۔

البتہ جس بات پر افسوس ضرور ہوا وہ یہ کہ سرکاری طبی اداروں نے اپنے طور سے یا حکومت کے کہنے پر ایساکوئی اقدم نہیں لیا، جس سے سیلاب زدگان کی تکلیف کا  ذرا بھی ازالہ ہوا ہو۔ چونکہ پاکستان میں سرکاری  ہسپتالوں کا نظام اتنا بگڑ چکا ہے کہ  عام طور پر یہ توقع ہی نہیں تھی کہ سرکاری ادارے قدرتی سانحات میں کوئی بھی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس منظر نامے میں ایک واحد ادارہ ایسا تھا، جس کا کردار بلکل ہی منفرد نکلا۔ یہ ہے توسرکاری ادارہ لیکن سندھ اسمبلی کے بنائے ہوئے ایک قانون کے تحت اس ادارے کو اپنے اندرونی معاملات میں خود مختاری حاصل ہے۔ وہ ادارہ ہے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) اور اس کے سربراہ  ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی ہیں۔

Source: DW