کیا مسئلہ یہ ہے؟

زبیدہ مصطفی

رسالہ فارن پالیسی (Foreign Policy) کے مضمون “کیا پاکستان کی حالت دم توڑتے مریض کی سی ہے؟” میں رابرٹ ہاتھوے نے، جو (Woodrow Wilson International Centre for Scholars in Washington) کے ایشین پروگرام کے ڈائیرکٹر ہیں پاکستانیوں کی یہ کہ کر سرزنش کی ہے کہ انہوں نے بہت عرصے تک نکمے حکمران، ضمیر فروش سیاست دان، ناکام ادارے اور خراب کارکردگی کو برداشت کیا ہے”۔

وہ لکھتے ہیں۔ “پاکستان راہنمائی اور نظریاتی قیادت اور ایک بیمار ریاست کی قسمت بدلنے کا قومی عزم پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے”۔ وہ حیران ہیں کہ پاکستانی کس سکون سے بُری حکومتوں کو سہ لیتے ہیں۔ مسٹر ہاتھوے آگے جاکر فرماتے ہیں کہ پاکستان اپنی آخری سانسیں گِن رہا ہے۔
مزید پڑھیں

Posted in دہشت گردی اور تشدد, سیاست, نیا, پاکستان کی خارجہ پالیسی | ایک تبصرہ چھوڑیں

قبضي مافيا خلاف هڪ سگهاري آواز جي خاموشي

پازيب سلام

ڪراچيءَ جي سرحدن تي وسندڙ ڳوٺن جي مالڪاڻن حقن ۽ مشرف دور کان وٺي هينئر تائين شهري حڪومت طرفان انهن ڳوٺن کي ڊاهڻ جي منصوبن خلاف ڪم ڪندڙ اورنگي پائلٽ پراجيڪٽ (او پي پي) جي سربراهه پروين رحمان کي پنهنجي گهر گلستانِ جوهر ويندي ٽارگيٽ ڪري ماريو ويو. ڪراچيءَ جي فاشسٽ قبضي خور جماعت ڪهڙي آهي، ان تي ڪي به ٻه رايا نه آهن، ان ڪري پروين رحمان جا قاتل ڪير آهن، ان تي به ٻه رايا هرگز نه آهن. پروين رحمان، دائود انجينيئرنگ جي تربيت يافته آرڪيٽيڪ،  هڪ نامياري ۽ منفرد سماجي ڪارڪن اختر حميد خان جي غريب دوست ۽ عوام دوست شاگرد، جنهن پنهنجي زندگيءَ جا 25 سال اورنگي پائلٽ پراجيڪٽ  ذريعي ڪچين آبادين جي رهاڪن کي مالڪاڻا حق ڏيارڻ، انهن علائقن ۾ پاڻيءَ جي مسئلن کي حل ڪرڻ، گندي پاڻيءَ جي نيڪاليءَ جي نظامن کي بهتر ڪرڻ، ۽ انهن مافيائن خلاف غريب آبادين جي حفاظت ۾ ارپيا، جيڪي ڳوٺ ڊاهي اها زمين بلڊرن کي وڪڻي اربين روپيا ڪمائڻ چاهين ٿا. او پي پي اهو عزم رکيو هو ته اهي آباديون، جن جي حفاظت ۾ شهري حڪومت خلاف ڪڏهن به سنڌ حڪومت گُهربل اڳڀرائي نه ڪئي، انهن جي سدائين سهائتا ڪبي، ۽ کين ڪڏهن به قبضي گيرن جي حوالي ڪرڻ نه ڏبو. گذريل رات ان پروين رحمان جوآواز بند ڪيو ويو، هن اڏول ناري جنهن عوام دوست، پر ڏکئي مقصد لاءِ جدوجهد دوران جاني نقصان جي خطرن کي سمجهندي  ڪم جاري رکيو، ۽ نيٺ هوءَ ان مقصد لاءِ قرباني ڏئي هلي به وئي.

مزید پڑھیں

Posted in خواتین, مہمان تحریر | ایک تبصرہ چھوڑیں

قبضہ مافیا کے خلاف ایک مضبوط آواز کی خاموشی

پازیب اسلام

کراچی کی سرحدوں پر بسے ہوئے گاؤں کے مالکانہ حقوق اور مشرف دؤر سے لیکر اب تک شہری حکومت کی جانب سے ان گاؤں کو مسمار کرنے کے منصوبوں کے خلاف کام کرنے والے اورنگی پائلٹ پراجیکٹ (او پی پی) کی سربراہ پروین رحمان کو ان کے گھر گلستانِ جوہر جاتے ہوئے نشانہ بناکر قتل کردیا گیا۔ کراچی کی فاشسٹ قبضہ خور جماعت کون ہے اس کے بارے میں کوئی بھی دو رائے نہیں۔ لہٰذا پروین رحمان کے قاتل کون ہیں، یہ بھی کوئی راز نہیں ہے۔ پروین رحمان ، داؤد انجنئرنگ کی تربیت یافتہ آرکیٹیک، ایک نامور سماجی کارکن اختر حمید خان کی غریب دوست اور عوام دوست شاگرد ، جنہوں نے اپنی زندگی کے 25 برس اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کے ذریعے کچی بستیوں کی باسیوں کو مالکانہ حقوق دلوانے، ان علائقوں میں پانی کے مسائل کو حل کروانے ، گندے پانی کے نیکال کے نظام کو درست کروانے اور ان مافیاؤں سے غریب آبادیوں کو بچانے میں سونپ دیے جو یہ گاؤں مسمار کر کے ان کی زمین بلڈر مافیا کو فروخت کرکے اربوں روپے کمانا چاہتے ہیں۔او پی پی کا یہ عزم تھا کہ یہ بستیاں جن کی حفاظت کے لیے شہری حکومت کے خلاف کبھی بھی سندھ حکومت نے کوئی مطلوبہ پیش رفت نہیں کی، ان کا ہمیشہ ساتھ دے گی اور کبھی بھی ان کو قبضہ خوروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ پروین رحمان نے جو آواز بلند کی تھے، اس بہادر خاتون نے جس عوام دوست مگر کٹھن مقصد کے لیے جدوجہد کی راہ میں جانی نقصان کے خطرات کو سمجھتے ہوئے اپنا کام جاری رکھا وہ بالآخر اس مقصد کی راہ میں قربان ہوگئی۔

مزید پڑھیں

Posted in ترقی اور غربت, خواتین, قابل ذکر شخصیات, مہمان تحریر | ایک تبصرہ چھوڑیں

پروین کے لیئے – پاکستان کے لیئے

کیا یہی میری دھرتی ہے
جہاں سَر دھڑ سے قلم ہوتے ہیں
جہاں گھر بارود سے اُوجاڑے جاتے ہیں
جہاں مذہب قتل و غارت سکھاتا ہے
جہاں خون کے آنسو سب روتے ہیں
مزید پڑھیں

Posted in خواتین, نیا | ایک تبصرہ چھوڑیں

بنام پروین رحمان – نظم انور راشد

nazam-bnam-perween-in-english-from-rashid-sahab

Posted in خواتین, نیا | ایک تبصرہ چھوڑیں

میری ننھی بہن، پروین رحمان، تُو آرام سے نیند لے

زبیدہ مصطفی

میری کوئی چھوٹی بہن نہیں تھی مگر ایک وقت تھا، پتہ نہیں کب، جب میری زندگی کا یہ خلا جو مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا ایک خاتون نے آکر پر کردیا۔ وہ میری سہیلی عقیلہ کی ‘ ننھی ‘ بہن تھی اور اس کے انداز ا تنے دلربا تھے کہ ہم دونوں میں میل جول ہوگیا۔ وہ میری زندگی میں سورج کی کرنیں لے کر آئی جیسا کہ اور بہت سارے لوگوں کی زندگی میں اس نے اُجالا کیا۔

میری یہ ننھی بہن، پروین رحمان پچھلی بدھ کو گولی مارکر ہلاک کردی گئی، اور صرف اپنے خاندان اور ساتھیوں کو ہی غمگین نہیں چھوڑا بلکہ اس پورے ملک اور دنیا بھر کے سماجی کارکن اس عظیم نقصان پر ماتم کنندہ ہیں۔
مزید پڑھیں

Posted in ترقی اور غربت, خواتین, سماجی مسائل, نیا | ایک تبصرہ چھوڑیں

خیالات کی جنگ

(Khayalat Ki Jang)

حال ہی میں فورم فار سیکیولر پاکستان(Forum for Secular Pakistan ) کے منعقد کیئے گئے سیمینار “ڈیموکریسی اور سیکیولرزم” نے دو حقیقتو ں پر ز ور د یا ۔

پہلا یہ کہ سیکیولرزم کے بغیر ڈیموکریسی نہیں ہوسکتی۔ دوسرایہ کہ ڈیموکریسی کو پنپنے اور مظبوط ہونے کیلئے ملکی سطح پر ایک تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری آئی اے رحمان نے یہ بات بڑے واضح الفاظ میں بیان کی۔

اس موقع پر تمام مقررین نے ان خطرات پر تفصیلی روشنی ڈالی جو طالبانائیزیشن کے تحت پاکستان میں سیکیولرزم کے حامی افراد کودرپیش ہیں۔ یہ باتیں سامعین جن کی اکثریت ایک سی سوچ رکھنے والے روشن خیال لوگوں کی تھی اور جو عموماً اس طرح کے انٹلکچؤ ل مباحثوں میں خاصی تعداد میں پہنچ جایا کرتے ہیں کیلئے نئی نہ تھیں۔ یہ نعرے پہلے بھی کئی دفعہ لگائے جاچکے ہیں۔ 1986 کی چھپی ہوئی سبط حسن کی کتاب “پاکستان میں خیالات کی جنگ “(The Battle of Ideas in Pakistan) پڑھئیے اور آپ کو پتہ چل جائے گا کہ سیکیولرزم کا مطالبہ نیا نہیں ہے۔
مزید پڑھیں

Posted in اسلامائزیشن, انسانی حقوق, آئین, سماجی مسائل, سیاست, نیا | ایک تبصرہ چھوڑیں

ہتھیاروں سے پاک کراچی؟

(? Hathiaron Se Pak Karachi)

ذرائع ابلاغ میں جو رپورٹیں آئیں ہیں ان کے مطابق 2012 میں کراچی میں 2,500 – 3,000 لوگ تشدد کا شکار ہوئے۔no-weapons-1 اسی سال ستمبر میں یُو این کے ممبر ممالک نے معاہدہ کیا کہ وہ دنیا کو اس نقصان اور تکلیف سے پاک کریں گے جوچھوٹے ہتھیاروں کی خلاف قانون تیاری اور دنیا کے کئی علاقوں میں ان کی منتقلی اور تقسیم کی وجہ سے ہوئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی عہد کیا کہ وہ یہ کام کرنے کیلئے ضروری سیاسی رضامندی اور وسائل بھی جمع کریں گے۔ کراچی کو ہتھیاروں سے پاک نہ کر کے پاکستان اس عہد کے متضادی سمت جارہا ہے۔ کیا ہم نے طے کر لیا ہے کہ ہم اسی طرح موت کے دہانے پر اپنے ارد گرد چلتی ہوئی گولیوں کے درمیان زندگی گزاریں گے؟
مزید پڑھیں

Posted in انسانی حقوق, دفاع اور تخفیف اسلحہ, دہشت گردی اور تشدد, سیاست, نیا | ایک تبصرہ چھوڑیں

وہ جس نے تبدیلی کو چُنا

(Woh Jis Ne Tabdili Ko Chuna)

IMG_0611“انسان اپنی تاریخ خود لکھتا ہے۔ لیکن اس کے حالات اس کے اپنے بنائے ہوئے نہیں ہوتے۔ اس کے عمل اس کے زمانے کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی ڈھانچوں کے حساب سے ڈھلتے ہیں۔ ان مجبوریوں کے باوجود، اور شاید ان ہی کی وجہ سے، انسان مختلف راستے اختیار کر سکتا ہے۔” (نیئل فالکنر)

مگر ہر ایک وہ راستے نہیں ڈھونڈتا جو وہ خود بناسکے۔ اور اس سے بھی کم لوگ ان راستوں کو اپناتے ہیں۔ زیادہ تر انسان پیچھے بیٹھ کر حکومت یا سوسائٹی کو اپنے لیئے راستہ چننے کا اختیار دے دیتے ہیں۔ یہ لوگ تقدیر کے مارے ہوتے ہیں۔ اور اس کو اپنا نصیب یا قسمت کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سب سے آسان راستہ چن لیا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں

Posted in اسلامائزیشن, ترقی اور غربت, تعلیم, سماجی مسائل, نیا | ایک تبصرہ چھوڑیں

بیرونی امداد ۔ رشوت اور بد عنوانی بڑھنے کی ایک وجہ

(Beroni Imdad – Rishwat aur Badunwani Barhne ki Eik Waja)

کراچی میں مولوی تمیز الدین خان روڈ پر صدر کی طرف جاتے ہوئے آپ نے ایک بڑا سا سائن بورڈ ضرور دیکھا ہوگا جو سلیس اردو میں اعلان کرتا ہے۔ “اگر آپ کے پاس کسی یوایس اے آئی ڈی کے پرجیکٹ کے کسی فراڈ کےبارے میں معلومات ہوں تو شکایات مندرجہ ذیل طریقوں سے درج کروائیے” ۔۔۔۔۔۔ یہ پیغام یوایس اے آئی ڈی کی اینٹی فراڈ ہاٹ لائن کی طرف سے ہے۔

یہ سادہ سا سائن بورڈ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس ملک میں بدعنوانی اور رشوت کا دور دورہ ہے اور بڑابھائی ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد دہانی ملتی ہے کہ ہم امریکی امداد پر زندہ ہیں۔
ہمارے اپنے کئی دانش مندلوگوں نے غیر ملکی امداد کے نقصانات کے بارے میں تنبیہ کی ہوئی ہے۔ بد قسمتی سے ہماری حکومتیں، پچھلی اور موجود، دونوں نے یہ سمجھا ہے کہ بیرونی امداد کا حجم ان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا ضامن ہے۔
مزید پڑھیں

Posted in بین الاقوامی سیاست, ترقی اور غربت, معیشت, پاکستان کی خارجہ پالیسی | ایک تبصرہ چھوڑیں